الیکشن 2024: این اے 143 چیچہ وطنی سے متوقع امیدوار اور انکی پارٹیاں

حتمی مقابلہ تین سیاسی جماعتوں میں ہو گا جن میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور استحکام پاکستان پارٹی شامل ہیں۔

تحریر: ارشد فاروق بٹ

چیچہ وطنی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 143 کا نام الیکشن 2018 میں این اے 149 تھا۔ قومی اسمبلی کی نشست کے لیے اس حلقے کا حدود اربعہ درج ذیل ہے۔

1۔ چیچہ وطنی تحصیل کے مندرجہ ذیل علاقے:
●میونسپل کمیٹی چیچہ وطنی(چارج نمبر 8 اور 9)
●چیچہ وطنی قانونگو حلقہ
●کسووال قانونگو حلقہ
●اقبال نگر قانونگو حلقہ
●شاہکوٹ قانونگو حلقہ
●اوکانوالہ قانونگو حلقہ
2۔ غازی آباد قانونگو حلقہ کے مندرجہ ذیل پٹوار سرکل:
●چک نمبر 169 نو ایل
●چک نمبر 171 نو ایل
●چک نمبر 21 گیارہ ایل
●چک نمبر 24 گیارہ ایل
●چک نمبر 28 گیارہ ایل
●چک نمبر 31 گیارہ ایل

این اے 143 میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، استحکام پاکستان پارٹی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اپنے امیدواروں کے ساتھ انتخابی میدان میں نبرد آزما ہونگی۔ تاہم حتمی مقابلہ تین سیاسی جماعتوں میں ہو گا جن میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور استحکام پاکستان پارٹی شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے تین اہم لیڈران سابق ایم این اے چوہدری طفیل جٹ، سابق ایم این اے چوہدری منیر ازہر اور سابق ایم این اے چوہدری زاہد اقبال اس حلقے میں موجود ہیں۔ تاہم چوہدری منیر ازہر کی جانب سے جانشینی چوہدری شاہد منیر کو سونپ دیے جانے کے بعد ان کی دلچسپی صوبائی حلقے پی پی 204 (سابقہ پی پی 202) تک محدود ہو گئی ہے۔ چوہدری زاہد اقبال اس حلقے کی بجائے این اے 142 (سابقہ این اے 148) میں مصروف عمل ہیں۔ اس صورت حال میں اگر استحکام پاکستان پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ نہ بنا تو ٹکٹ کے حصول کے لیے چوہدری طفیل جٹ کا راستہ صاف ہے۔

جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کے اہم عہدیدار ملک نعمان لنگڑیال اس حلقے میں اپنی جماعت کی طرف سے واحد امیدوار ہیں۔ ملک نعمان لنگڑیال سابق ایم این اے، سابق ایم پی اے و صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے اور حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنوانے میں شامل پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ملک نعمان لنگڑیال نے لیڈ کیا۔ اس حلقے کے دیگر امیدواروں کے برعکس وہ مختلف ٹاک شوز میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور خبروں میں رہنے کے عادی ہیں۔ ان کے الیکشن لڑنے کی صورت میں پاکستان مسلم لیگ ن کا ووٹ تقسیم ہو گا جس کا فائدہ تیسرے امیدوار کو ہو سکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم این اے رائے مرتضی اقبال اس وقت روپوش ہیں اور انتخابی میدان میں اترنے کے لیے مناسب وقت کے انتظار میں ہیں۔ رائے برادران کی غیر موجودگی سے حلقے میں افواہوں کا بازار گرم ہے تاہم اب تک رائے برادران تحریک انصاف کی طرف سے ہی الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور نوجوان ووٹرز کے باعث دیگر حلقوں کی طرح این اے 143 میں بھی نظریاتی ووٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ یہاں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی ووٹر بڑی تعداد میں ہیں، تاہم استحکام پاکستان پارٹی ابھی نوزائیدہ ہے۔ اس کا بیانیہ اور نظریات کارکنان کو کس حد تک راغب کرتے ہیں فیصلہ الیکشن میں ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ رائے برادران اس نطریاتی ووٹ کے ساتھ ہی میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔ ان کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا وقت اب گزر چکا ہے۔

مقتدرہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے روپوش لیڈران کو دانہ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن دانہ دنکا چگنے کے لیے نکلنے والے کبوتروں کو دبوچ لیا جاتا ہے۔ اعتماد سازی کا فقدان فروری 2024 میں ہونے والے الیکشن کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بھی لے جا سکتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.